19 اکتوبر 2014 - 12:10
ترکی کے صدر کا دورہ افغانستان + تصویر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اس ملک کے پہلے صدر ہیں جنھوں نےاٹھارہ اکتوبر کو افغانستان کا دورہ کیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اس ملک کے پہلے صدر ہیں جنھوں نےاٹھارہ اکتوبر کو افغانستان کا دورہ کیا۔ انھوں نے اس دورے میں افغانستان کا سب سے بڑا نشان ، نشان امان اللہ خان بھی دریافت کیا جو ترکی اور افغانستان کے تعلقات اعلی ترین سطح پر پہنچانے کی کوشش کا عکاس بھی ہوسکتا ہے۔
البتہ ترکی اور افغانستان کے تعلقات میں ہمیشہ نشیب و فراز آتا رہا ہے لیکن امان اللہ خان کے برسراقتدارآنے اور افغانستان کی آزادی کے اعلان کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کئی نئے دور کا آغاز ہوا اور ایک طرح سے یہ ترکی کے لئے افغانستان کے دروازے کھلنے کا باعث ہوا۔
سابق سویت یونین کے بعد ترکی وہ پہلا ملک تھا جس نے افغانستان کی آزادی و خودمختاری کو تسلیم کیا اور اس دور کے علاوہ کہ جس میں افغانستان سابق سویت یونین کی زيرحمایت تھا، انقرہ اور کابل کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے۔
دوہزار ایک میں ترکی نے نیٹو کے رکن کی حیثیت سے اپنے فوجی افغانستان بھیجے اور اعلان کیا کہ فوجی مشارکت کے بجائے وہ ثقافتی اور سماجی میدانوں میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
ترکی نے افغانستان میں ایک پولیس ٹریننگ اکیڈمی کے قیام اور مسجد، یونیورسٹی، اسکول، اور اسپتال جیسی چیزوں کی تعمیر کےلئے افغانستان کی مالی مدد کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ومرمت میں کابل حکومت کی مدد کرےگا۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ ترکی کی اس مدد کے پیچھے افغانستان کے تجاری اور اقتصادی میدانوں میں فعال کردار ادا کرنے کا ہدف پنہا ہے۔
درحقیقت تجارت اور اقتصاد ، ترکی کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں ہے البتہ اس کے ساتھ ہی نہ صرف مشرق وسطی اور ایشیاء میں بلکہ عالمی سطح پر ترکی کو ممتاز مقام پر پہنچانا انقرہ حکومت کے لئے نہایت اہم ہے اور یہ وہ نکتہ ہے جو ترکی کے وزیراعظم احمدداؤد اوغلوکی اسٹریٹیجک میں نہایت توجہ کا حامل ہے۔
اس ڈاکٹرائن کا ایک مقصد یہ ہے کہ ترکی کو علاقائی اور عالمی بحرانوں میں نہایت اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ حتی یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ ترکی علاقے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی تعاون کے ذریعے بیرونی مداخلت کی ضرورت ختم کردے۔
اس سلسلے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خاص طور پر دہشتگردی سے متعلق مسائل کے سلسلے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی خبر دی ہے۔
اگرچہ اس وقت انقرہ حکومت خود علاقے میں داعش گروہ کی حمایت پرمبنی بعض مسائل اور عراق میں دہشتگردگروہ کامقابلہ کرنے میں پس وپیش کے باعث شدید تنقیدوں کا سامنا کر رہی ہے یہاں تک کہ بہت سے سیاسی ماہرین، سلامتی کونسل میں عارضی نشست حاصل کرنے میں ترکی کی ناکامی کو ایک طرف اس طرح کی پالیسیوں اور دوسری جانب داؤد اوغلو کے ڈاکٹرائن کو عملی جامہ پہنانے میں انقرہ حکومت کی ناکامی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

.......

/169